انٹرٹینمنٹاہم ترینبین الاقوامیتازہ ترینعلاقائیقومی

مظفرآباد میں افغانی خاندانوں کی بڑھتی آبادکاری، انتظامیہ کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی

مظفرآباد (نمائندہ خصوصی) — ڈپٹی کمشنر مظفرآباد طاہر ممتاز کے بلند و بانگ دعوے ایک بار پھر زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے۔ حکومتِ آزاد کشمیر کی جانب سے بھی حسبِ روایت محض دکھاوے کی کارروائیوں کے سوا کچھ نہ کیا گیا۔

دارالحکومت مظفرآباد اور اس کے نواحی علاقوں میں افغان خاندانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ مدینہ مارکیٹ، ٹاہلی منڈی، بینک روڈ، سینٹر پلیٹ، چہلہ بانڈی، گھڑی دوپٹہ اور پٹہکہ سمیت کئی اہم تجارتی مراکز میں افغانی باشندے بڑے پیمانے پر کاروبار کر رہے ہیں۔ ان میں گوشت، جوتے، کپڑے، جوس اور دیگر اشیائے خوردونوش کی دکانیں شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان میں سے کئی افراد نے بغیر کسی قانونی اجازت کے دکانیں کرائے پر حاصل کر رکھی ہیں، جبکہ بعض با اثر شخصیات ان کی پشت پناہی بھی کرتی ہیں۔ سول سوسائٹی کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال، احتجاج یا ہنگامہ آرائی کے دوران یہی عناصر حالات کو مزید بگاڑنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

گرلز کالج روڈ، علامہ اقبال برج، تانگہ اسٹینڈ، موہری گوجرہ، بیلا نور شاہ اور اپر طارق آباد سمیت مختلف علاقوں میں افغانیوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ بینک روڈ پر تو برسوں سے گوشت فروخت کرنے کی آڑ میں بدتمیزی اور بدنظمی معمول بن چکی ہے، مگر انتظامیہ نے آج تک مؤثر کارروائی نہیں کی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ جب ایک دو بار ان کی حرکتوں پر پولیس حرکت میں آئی بھی، تو چند گھنٹوں بعد ہی سب کو چھوڑ دیا گیا۔ سول سوسائٹی کا مطالبہ ہے کہ اگر ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان کو مؤثر بنانا ہے تو آزاد کشمیر کے دارالحکومت میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان خاندانوں کو فوری طور پر ان کے وطن واپس بھیجنے کے اقدامات کیے جائیں، تاکہ امن و امان کی فضا بحال ہو سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *