اہم ترینتازہ ترینعلاقائی

آزاد کشمیرکے دارالحکومت مظفرآباد میں دودھ کا بحران سر اٹھانے لگا

مقامی ڈیری انڈسٹری شدید تنزلی کا شکار ، فارمرز کاحکومت سے ہنگامی مداخلت کا مطالبہ

مظفرآباد ڈویژن میں ڈیری انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ خوراک کی آسمان کو چھوتی قیمتوں، سائلج کی شدید قلت اور ڈیزل کے نرخوں میں بے تحاشا اضافہ، راستوں کی بندش مقامی فارمرز کے لیے ڈیتھ وارنٹ ثابت ہو رہا ہے۔
اس بحرانی کیفیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک منظم مافیا بیرونِ آزاد کشمیر سے انتہائی غیر معیاری، سستا اور مضرِ صحت دودھ مظفرآباد لا کر عوامی صحت سے کھیل رہا ہے۔ مظفرآباد کے رجسٹرڈ ڈیری فارمرز نے ڈپٹی کمشنر کو بھجوائے گئے ہنگامی مراسلے میں خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر فزیبلٹی ریٹس کا ازسرنو تعین نہ کیا گیا اور غیر معیاری دودھ کی ترسیل نہ روکی گئی تو مظفرآباد کے تمام ڈیری فارمز بند ہو جائیں گے، جس کے بعد شہر میں دودھ کا شدید قحط پیدا ہو سکتا ہے۔
مراسلے کے مطابق، موجودہ معاشی حالات اور پیداواری لاگت کے درمیان وسیع خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ نومبر میں جب ڈیزل کی قیمت 278 تا 284 روپے کے درمیان تھی، تب فزیبلٹی 257 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی۔ آج ڈیزل کی قیمت 385 روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ فزیبلٹی کا تناسب اس کے مقابلے میں کہیں کم ہے، جس سے فارمرز کو ہر لیٹر پر مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب دُلائی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔جس سے لائیوسٹاک سے متعلقہ سامان کی ترسیل تعطل کا شکار ہے اور متبادل راستوں کے استعمال سے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
فارمرز کا موقف ہے کہ اگر مقامی وسائل سے حاصل ہونے والے معیاری دودھ کو فروغ دیا جائے تو یہ عوامی صحت کے لیے زیادہ محفوظ ہے۔ڈیری فارمرز نے ڈپٹی کمشنر مظفرآباد سے مطالبہ کیا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں دودھ کی قیمتوں میں کمی نہ کی جائے اور فزیبلٹی ریٹس کا فوری ازسرنو جائزہ لیا جائے۔غیر معیاری اور مصنوعی دودھ کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *